بال کٹوانے کے لیے بھی اجازت درکار”؟ چینی سرمایہ کار کی کہانی

Red Minimalist Breaking News Announcement Youtube Thumbnail 6

کراچی: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے دعووں کے درمیان ایک چینی سرمایہ کار کی مبینہ داستان نے کاروباری ماحول، بیوروکریسی اور سرمایہ کاروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تحریر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال تین چینی سرمایہ کاروں نے کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں الیکٹرک تھری ویلر لوڈر اسمبلی پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے باضابطہ منظوری کے لیے درخواست بھی جمع کرائی۔

تحریر کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر فیکٹری پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جن کے اخراجات کمپنی کے ذمہ ڈالے گئے۔ بعد ازاں یہی انتظام مبینہ طور پر سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات کا باعث بنتا گیا اور ان کی نقل و حرکت بھی مختلف پابندیوں سے مشروط ہو گئی۔

تحریر میں ایک چینی سرمایہ کار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اسے معمولی ذاتی کاموں کے لیے بھی اجازت ناموں اور سرکاری طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث وہ شدید مایوسی کا شکار ہو گیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ بالآخر اس نے کراچی میں اپنا منصوبہ محدود کرنے اور بعد میں پنجاب منتقل ہونے یا چین واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔

مصنف کے مطابق سرمایہ کار نے اپنے تیار شدہ رکشوں کا بڑا حصہ کم قیمت پر فروخت کیا اور پاکستان میں کاروباری ماحول سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ کاروبار سے زیادہ وقت مختلف اجازت ناموں اور انتظامی رکاوٹوں سے نمٹنے میں صرف ہو رہا تھا۔

اگرچہ اس واقعے سے متعلق متعلقہ حکومتی اداروں یا سندھ حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم یہ تحریر سوشل میڈیا اور کاروباری حلقوں میں توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول، آسان کاروباری ضوابط اور مؤثر سکیورٹی انتظامات کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سرمایہ کاروں کو غیر ضروری رکاوٹوں، پیچیدہ ضوابط یا اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اثرات نہ صرف نئی سرمایہ کاری بلکہ روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاہم مذکورہ واقعے کے تمام دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے سرکاری مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

پوسٹ بشکریہ: انور اقبال

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top