کراچی: نیپئر تھانے سے متعلق ایک حساس کیس میں خاتون پولیس افسر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو کے بعد پولیس نظام اور تفتیشی عمل پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
کراچی: نیپئر تھانے کے کیس میں خاتون پولیس افسر کا سنگین الزام، اعلیٰ سطح تحقیقات کا مطالبہ
خاتون پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک غیر ملکی ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمے کی تفتیش کے دوران مبینہ طور پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملزم پر متعدد خواتین کے ساتھ زیادتی اور بعض واقعات میں قتل جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں، تاہم تفتیشی عمل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
خاتون افسر نے الزام عائد کیا کہ انہیں کیس کی مؤثر تفتیش سے روکنے، ریمانڈ لینے پر دباؤ ڈالنے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے سے متعلق ویڈیو پہلے سینئر پولیس افسران کو بھجوائی گئی، تاہم کارروائی نہ ہونے پر اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد شہری حلقوں نے واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطح تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر خاتون افسر کے الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف تفتیشی نظام بلکہ متاثرہ خواتین کے انصاف کے لیے بھی انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کیسز میں متاثرہ افراد کی شناخت، عزتِ نفس اور قانونی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے، جبکہ ملزم کے خلاف تمام کارروائی شواہد، میڈیکل رپورٹس، فرانزک اور عدالتی عمل کے مطابق ہونی چاہیے۔
شہریوں نے سندھ حکومت، پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون پولیس افسر کے الزامات، تفتیش میں مبینہ مداخلت، ملزم کو دی جانے والی مبینہ سہولتوں اور کیس کے تمام پہلوؤں کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔
تاحال اس معاملے پر متعلقہ پولیس حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ واقعے سے متعلق مزید حقائق سرکاری تحقیقات اور پولیس کے مؤقف کے بعد واضح ہوں گے۔



