فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ 2026 ختم ہونے کا امکان، بجٹ میں بڑی تبدیلیاں متوقع

Copy of Copy of Global Voice News

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے دی گئی مختلف ٹیکس رعایتوں کے خاتمے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ 2026 میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے ان علاقوں میں عام ٹیکس قوانین نافذ ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری بجٹ مذاکرات میں ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کو محدود کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔ حکومت مختلف شعبوں میں دی گئی ٹیکس مراعات کم کر کے محصولات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ 2026 کے خاتمے سے قومی خزانے کو تقریباً 40 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سابق فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی 2026 کے بعد فاٹا اور پاٹا میں کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح عام ٹیکس قوانین لاگو ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ تجاویز میں فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ علاوہ ازیں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ 2026 کے علاوہ حکومت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو دی گئی بعض ٹیکس رعایتوں کے خاتمے پر بھی غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026 سے ختم ہونے کا امکان ہے، جبکہ مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت 30 جون 2026 تک برقرار رہے گی۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ بدستور 30 جون 2026 تک موجود رہے گا، تاہم دیگر کئی شعبوں میں دی گئی رعایتوں کے خاتمے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

دوسری جانب حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمٹ سپورٹ لیوی کو بھی بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تجویز کے مطابق یکم جولائی 2026 سے یہ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کی جا سکتی ہے۔ حکومتی تخمینوں کے مطابق اس مد میں آئندہ مالی سال کے دوران 90 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ 2026 ختم کر دیا جاتا ہے تو اس کے اثرات مقامی صنعت، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومت کو محصولات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top