نیشنل پریس کلب کا 22 سالہ ریکارڈ معمہ بن گیا

Global Voice News 6 1

نو منتخب صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال کا ریکارڈ نامکمل ملنے کا دعویٰ، سینیئر نائب صدر احتشام الحق نے سابق فنانس سیکریٹری کی جانب سے ریکارڈ حوالگی کی تصویر شیئر کر دی

نیشنل پریس کلب کا 22 سالہ ریکارڈ معمہ بن گیا، صدر اور سینیئر نائب صدر آمنے سامنے

اسلام آباد: نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا 22 سالہ ریکارڈ ایک نیا تنازع بن گیا ہے، جس پر پریس کلب کی موجودہ قیادت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

نو منتخب صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال کا کہنا ہے کہ انہیں سابق سیکریٹری فنانس کی جانب سے دو تین کاغذات پر مشتمل کچھ دستاویزات دی گئی ہیں، جنہیں کسی صورت مکمل ریکارڈ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب نیشنل پریس کلب کے سینیئر نائب صدر احتشام الحق نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سابق فنانس سیکریٹری وقار عباسی نے پریس کلب کا ریکارڈ موجودہ صدر عبدالرزاق سیال کے حوالے کر دیا تھا۔

احتشام الحق کے مطابق سابق فنانس سیکریٹری صرف اپنے دور کا ریکارڈ دینے کے پابند تھے، جو انہوں نے دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صدر نہ جانے کون سے 22 سالہ ریکارڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم اس معاملے میں اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ اگر سابق فنانس سیکریٹری نے صرف اپنے دور کا ریکارڈ حوالے کیا تو گزشتہ ادوار کا ریکارڈ کہاں ہے؟ سابق فنانس سیکریٹری کو اپنے پیشرو سے جو ریکارڈ ملا تھا، اس کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ اور دو دہائیوں پر مشتمل مالی و انتظامی دستاویزات اس وقت کس کے پاس محفوظ ہیں؟

یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پریس کلب میں ایک ہی پینل کے نمائندے مختلف عہدوں پر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے صحافتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ادارے کا مکمل ریکارڈ منظم انداز میں محفوظ کیوں نہیں رکھا گیا۔

دوسری جانب نیشنل پریس کلب کے ارکان اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے دونوں گروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری کرنے کے عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ پریس کلب جیسے اہم ادارے کے معاملات کو سوشل میڈیا کی بحث کا حصہ بنانے کے بجائے باقاعدہ اجلاس، آڈٹ، ریکارڈ کمیٹی یا جنرل باڈی کے سامنے رکھا جانا چاہیے تاکہ شفافیت بھی برقرار رہے اور ادارے کا وقار بھی متاثر نہ ہو۔

ارکان کا مؤقف ہے کہ صحافی برادری کو اس وقت بے روزگاری، تنخواہوں میں تاخیر، میڈیا ہاؤسز کے مسائل، ہیلتھ سہولیات، رہائشی اسکیموں اور پیشہ ورانہ تحفظ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں قیادت کی توانائی باہمی اختلافات کے بجائے صحافیوں کے اجتماعی مفاد پر صرف ہونی چاہیے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پریس کلب کے صدر اور سینیئر نائب صدر دو مختلف حریف گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں جانب سے سوشل میڈیا پر الگ الگ ویڈیو بیانات جاری کیے جا چکے ہیں۔

صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل پریس کلب کے مکمل مالی، انتظامی اور دفتری ریکارڈ کی شفاف جانچ پڑتال کی جائے، ریکارڈ کی حوالگی کا باقاعدہ طریقہ کار طے کیا جائے اور اس معاملے کو باہمی الزام تراشی کے بجائے ادارہ جاتی طریقے سے حل کیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top