شہری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ملیر میں زمینوں کے بعد اب سکھن ندی کے اطراف بھی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، مقامی افراد نے تاریخی اور ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا
سکھن ندی پر مبینہ قبضہ، ملیر کا تاریخی اور ماحولیاتی ورثہ خطرے میں
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے، تعمیراتی سرگرمیاں روکنے اور سکھن ندی سمیت ملیر کے قدرتی و تاریخی مقامات کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا
کراچی: ضلع ملیر میں مختلف سرکاری، نجی اور زرعی زمینوں پر مبینہ قبضوں کے حوالے سے شہری حلقوں کی تشویش پہلے ہی موجود تھی، تاہم اب سکھن ندی کے اطراف مبینہ تعمیراتی سرگرمیوں نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
مقامی افراد اور سماجی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سکھن ندی کے اطراف قیمتی زمینوں پر مبینہ طور پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے اور بعض مقامات پر دن دیہاڑے تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق یہ معاملہ صرف زمین کے قبضے تک محدود نہیں بلکہ ملیر کے تاریخی، زرعی، ماحولیاتی اور قدرتی ورثے کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
شہری حلقوں کا الزام ہے کہ ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر ملیر اور اسسٹنٹ کمشنر ابراہیم حیدری سمیت متعلقہ اداروں کو صورتحال کا علم ہونے کے باوجود مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ سرکاری اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سکھن ندی ملیر کے قدیم قدرتی راستوں اور تاریخی اہمیت رکھنے والے مقامات میں شامل ہے۔ یہ ندیاں نہ صرف علاقے کی شناخت کا حصہ ہیں بلکہ زرعی زمینوں، باغات، زیر زمین پانی، مقامی آب و ہوا، مویشی پالنے والے افراد اور دیہی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شہریوں کے مطابق اگر ندیوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات، دیواریں یا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو مستقبل میں پانی کے بہاؤ، ماحولیات، زراعت اور مقامی آبادی کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملیر کی زمینیں اور ندیاں صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ علاقے کی تاریخ، تہذیب، زراعت اور عوامی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں۔
علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ملیر کی سیکڑوں ایکڑ زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سکھن ندی کا قدرتی وجود اور تاریخی شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی زمینداروں، سماجی رہنماؤں اور علاقہ مکینوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکھن ندی سمیت ملیر کے قدرتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس معاملے کو خاموشی سے نظرانداز نہ ہونے دیں۔
شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ملیر، محکمہ آبپاشی، محکمہ ریونیو، محکمہ ماحولیات، ایس بی سی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سکھن ندی کے اطراف مبینہ قبضوں، تعمیراتی سرگرمیوں، دیواروں اور زمین کے استعمال کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔
مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ سکھن ندی کے قدرتی راستے کو محفوظ کیا جائے، تمام غیر قانونی تعمیرات فوری روکی جائیں، زمین کے ریکارڈ کی شفاف جانچ پڑتال کی جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ملیر کے تاریخی و ماحولیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے مستقل پالیسی بنائی جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر آج سکھن ندی کو بچانے کے لیے آواز نہ اٹھائی گئی تو کل ملیر کے دیگر قدرتی راستے، زرعی زمینیں، باغات اور تاریخی مقامات بھی اسی طرح خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

