پیپلز پارٹی رہنما منظور وسان نے سوشل میڈیا انٹرویو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے 14 روز میں معافی مانگنے اور مبینہ پروپیگنڈا بند کرنے کا مطالبہ کر دیا
منظور وسان نے سابق اے آئی جی غلام شبیر شیخ کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھیج دیا
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظور وسان نے سابق اے آئی جی غلام شبیر شیخ کو 50
کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔لیگل نوٹس بیرسٹر مصطفیٰ مہیسر کے توسط سے ارسال کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ منظور وسان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں۔
نوٹس کے مطابق سوشل میڈیا انٹرویو میں منظور وسان سے متعلق کیے گئے دعووں کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے۔ لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایسے الزامات سے منظور وسان کی سیاسی ساکھ، عوامی وقار اور طویل سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا کہ منظور وسان کی نصف صدی پر محیط سیاسی خدمات اور عوامی کردار کو متنازع بنانے کے لیے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، جن سے ان کی شہرت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
لیگل نوٹس میں سابق اے آئی جی غلام شبیر شیخ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے الزامات واپس لیں، معذرت کریں اور منظور وسان کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا بند کریں۔نوٹس کے مطابق اگر 14 روز کے اندر معذرت نہ کی گئی تو پیکا قوانین اور ہتکِ عزت سے متعلق قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لیگل نوٹس میں ہتکِ عزت کے ازالے کے لیے 50 کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
منظور وسان کے قانونی نمائندوں کا کہنا ہے کہ الزامات کا معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے، اس لیے اگر مقررہ مدت میں معافی اور وضاحت سامنے نہ آئی تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

