کراچی کے شہری بھی اب ان کچہریوں میں آنے لگے ہیں،
اعتماد کی اس بحالی کا سہرا بھی سید ناصر شاہ کو جاتا ہے،
ان کی انکساری سے عوام اور افسر شاہی میں یکساں مقبولیت؟،
کراچی (آغاخالد)
سید ناصر شاہ کی روزانہ دو وقت کی کھلی کچہریاں عوام میں مقبول، کراچی کے شہریوں کا اعتماد بھی بحال ہونے لگا
کراچی: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی روزانہ منعقد ہونے والی کھلی کچہریاں عوامی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کی رہائش گاہ کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں کراچی کے شہریوں کی بڑی تعداد بھی ان عوامی نشستوں میں شرکت کرنے لگی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ڈیفنس فیز 8 کراچی میں واقع علی ہاؤس میں روزانہ دو اوقات میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ صبح 10 سے 12 بجے اور رات 10 سے 12 بجے تک عوام کی بڑی تعداد اپنے مسائل اور شکایات کے ساتھ سید ناصر حسین شاہ سے ملاقات کرتی ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سید ناصر شاہ کی عوامی رابطہ مہم اور براہِ راست عوامی رسائی نے ان کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ عوام کا مؤقف ہے کہ وہ ہر درخواست گزار کی بات تحمل سے سنتے ہیں اور متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات جاری کرکے مسائل کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔
مشاہدین کے مطابق یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ سید ناصر شاہ جب ضلع سکھر کے چیئرمین اور بعد ازاں رکن اسمبلی تھے، تب بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سندھ کے مختلف شہروں سے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جہاں عوامی نمائندوں تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے، وہاں سید ناصر شاہ کا عوام کے درمیان موجود رہنا اور براہِ راست ملاقات کرنا ایک مثبت روایت ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی نشستوں میں ہر طبقہ فکر کے لوگ بلا تفریق شریک ہوتے ہیں اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں اردو بولنے والے شہریوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ مختلف طبقوں کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے عوامی رابطے صوبے میں ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
سرکاری افسران اور مختلف محکموں کے اہلکار بھی سید ناصر شاہ کے ساتھ مؤثر ورکنگ ریلیشن شپ کا اظہار کرتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی سنجیدگی اور انتظامی معاملات پر گرفت انہیں صوبائی کابینہ کے نمایاں وزراء میں شامل کرتی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر منتخب نمائندے اسی طرز پر عوام سے رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل سننے کی روایت کو فروغ دیں تو حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔





