اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معین وٹو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور قانونی حیثیت کا حامل معاہدہ ہے، جس کی اہمیت نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور سفارتی اعتبار سے بھی مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر عالمی برادری کے سامنے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان 25 کروڑ عوام کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ملک کے پانی کے حصے یا قومی مفادات کو متاثر کرے۔
معین وٹو نے خبردار کیا کہ پانی جیسے اہم وسائل کو سیاسی یا سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبی تنازعات کو بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان قومی مفادات، آبی وسائل اور عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا کردار جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تعاون کا خواہاں ہے، تاہم اپنے بنیادی حقوق اور وسائل کے تحفظ کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔



