ہل پارک میں متنازع تعمیرات، شہری حلقوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

Global Voice News

ہل پارک کے قریب متنازع تعمیرات کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، کے ایم سی دستاویزات اور باؤنڈری وال نے نئے سوالات اٹھا دیے

کراچی: ہل پارک کے قریب مبینہ قبضے، پہاڑی حصے کی کٹائی اور متنازع تعمیرات کے معاملے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جس مقام پر پہاڑ کی کٹائی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھی، وہاں اب باؤنڈری وال کھڑی کیے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق کے ایم سی کے محکمہ لینڈ کی جانب سے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 کے ایک پلاٹ سے متعلق 30 اپریل کو کنڈیشنل این او سی جاری کیا گیا تھا۔ این او سی میں کہا گیا تھا کہ اگر متعلقہ سوسائٹی اور دیگر مجاز اداروں کو اعتراض نہ ہو، اور تعمیرات میں سرکاری یا کے ایم سی کی زمین پر تجاوزات شامل نہ ہوں، تو محکمہ لینڈ کو تعمیرات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

تاہم اسی این او سی میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ دستاویز ملکیت کے قانونی حقوق یا پلاٹ کی حدود بندی کی تصدیق نہیں کرتی۔

دوسری جانب ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی نے ایس ایس پی ایسٹ کو خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض افراد مختلف دستاویزات اور این او سیز کو بنیاد بنا کر سرکاری اراضی اور ہل پارک کی زمین پر مبینہ قبضے یا تعمیرات کو قانونی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خط میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات، جعلی دستاویزات اور تجاوزات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہل پارک کراچی کا اہم عوامی مقام ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی متنازع تعمیرات یا زمین کے استعمال میں تبدیلی پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے تھا۔

عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوامی مقامات، پارکوں اور پہاڑی علاقوں کے تحفظ کے لیے بروقت کارروائی نہ کی گئی تو شہر کے دیگر پارکس اور کھلی جگہیں بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

اس معاملے پر سیاسی و سماجی حلقے بھی متحرک ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہل پارک کسی ایک جماعت یا گروہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے کراچی کا عوامی مسئلہ ہے، اس لیے تمام سیاسی، سماجی اور شہری حلقوں کو عوامی زمینوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہل پارک کے قریب ہونے والی تعمیرات، زمین کی قانونی حیثیت، جاری این او سیز، مبینہ باؤنڈری وال، پہاڑی کٹائی اور متعلقہ اداروں کے کردار کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ کسی بھی غیر قانونی تعمیر یا تجاوزات کو فوری طور پر روکا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے پارکس، پہاڑی مقامات اور عوامی زمینیں شہر کا اثاثہ ہیں، جن کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top