پاکستان ریلوے کا اذیت ناک سفر؛ اے سی کا کرایہ، مگر بوگی میں پنکھے اور گھٹن

4c194d4c 7590 41d6 81b0 dffe93cfc0a2

تحریر:
میاں اشفاق مجید آرائیں
رہنما مسلم لیگ ن، ضلع ملیر کراچی

کھلا خط بنام عزت مآب جناب حنیف عباسی صاحب، وزیر ریلوے پاکستان

قسط نمبر 2 — گزشتہ سے پیوستہ

محترم جناب حنیف عباسی صاحب!

جیسا کہ میں نے 25 مئی کو کراچی سے رحیم یار خان تک بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کے ذریعے کیے گئے سفر کی اپنی آپ بیتی تحریر کی تھی، آج اسی سلسلے کی دوسری قسط میں آپ کے سامنے واپسی کے سفر کا احوال رکھنا چاہتا ہوں۔

ہم نے سوچا کہ واپسی پر کسی نسبتاً اچھی اور راولپنڈی سے چلنے والی ٹرین کا انتخاب کیا جائے۔ دل میں خیال آیا کہ شاید آپ کے آبائی شہر سے چلنے والی ٹرین ہونے کے باعث سفر بہتر گزر جائے۔ اسی امید کے ساتھ ہمارے ذہن میں فوراً پاکستان ایکسپریس کا نام آیا، آخر ہم مسلم لیگی جو ٹھہرے۔ لہٰذا ہم نے 29 مئی کے لیے پاکستان ایکسپریس کے اے سی لوئر، بوگی نمبر 6 میں چھ سیٹوں والا کیبن بک کروا دیا۔

29 مئی کی صبح ناشتے کے بعد ہم نے ٹریکر کے ذریعے ٹرین کی پوزیشن چیک کی تو معلوم ہوا کہ ٹرین راولپنڈی سے بالکل رائٹ ٹائم روانہ ہوئی ہے۔ یقین کریں ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ہم نے سوچا کہ شاید 25 مئی کو آٹھ گھنٹے کی تاخیر کسی خاص وجہ سے ہوئی ہوگی، آج تو الحمدللہ ہم بروقت کراچی پہنچ جائیں گے۔

سارا دن انتظار کے بعد رات تقریباً 10 بجے ٹرین صرف 45 منٹ کی تاخیر سے رحیم یار خان پہنچی، جسے ہم پاکستانی معیار کے مطابق تقریباً رائٹ ٹائم ہی سمجھتے ہیں۔ ہم خوشی خوشی فیملی کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوئے۔ عزیز و اقارب، بھانجے اور بھتیجے چھوڑنے آئے ہوئے تھے، انہوں نے جلدی جلدی سامان کیبن میں رکھوانے میں مدد کی، کیونکہ وہاں ٹرین کا اسٹاپ صرف دو سے تین منٹ کا ہوتا ہے۔

ٹرین روانہ ہوئی تو ہم نے اطمینان سے بیٹھ کر سکون کا سانس لیا، مگر چند ہی لمحوں بعد محسوس ہوا کہ صرف پنکھا چل رہا ہے، اے سی کی کولنگ کہیں موجود نہیں۔ پہلے تو ہم نے سوچا شاید کچھ دیر میں کولنگ شروع ہو جائے گی، مگر جب دیگر مسافروں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ایئر کنڈیشن بہاولپور سے ہی بند ہے۔

ہم نے متعلقہ الیکٹریشن کو تلاش کرنا شروع کیا۔ وہ صاحب دوسری اے سی بوگی میں براجمان تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا ایک الیکٹریکل کنڈکٹر جل گیا ہے، جس کی رپورٹ روہڑی اسٹیشن پر کر دی گئی ہے اور وہاں سے مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا۔

محترم عباسی صاحب! بہاولپور سے روہڑی کا سفر تقریباً پانچ گھنٹے سے زائد کا ہے۔ کیا آپ نے کبھی، یا ریلوے کے کسی بڑے افسر نے، اس حالت میں بند اے سی بوگی کے اندر سفر کیا ہے؟ ایک ایسی بوگی جس میں باہر کی ہوا بھی نہ آ رہی ہو، انٹری گیٹ رسیوں سے باندھ کر کنٹرول کیے گئے ہوں، واش روم انتہائی گندے ہوں، پانی کھڑا ہو، خواتین، بچے اور بزرگ موجود ہوں، اور اے سی مکمل طور پر بند ہو؟

فیملی کے ساتھ تو دور کی بات، اگر ریلوے کے کسی افسر کو اکیلے بھی اس اذیت ناک ماحول میں چند گھنٹے بٹھا دیا جائے تو شاید انہیں عوام کی تکلیف کا احساس ہو جائے، شاید کچھ غیرت، کچھ شرم اور کچھ ذمہ داری کا احساس جاگ جائے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ریلوے کے افسرانِ بالا کو اس بدانتظامی پر ڈوب مرنا چاہیے۔

یہ اذیت صرف وہی مسافر سمجھ سکتا ہے جس کے ساتھ بوڑھے والدین، چھوٹے بچے، خواتین اور فیملی موجود ہو۔ مگر افسوس کہ ریلوے انتظامیہ کے نزدیک شاید یہ مسافر بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، حالانکہ انہی مسافروں کی جمع پونجی سے ڈبل، ٹرپل کرایہ وصول کر کے ریلوے کے افسروں اور ذمہ داران کی عیاشیاں جاری رہتی ہیں۔

جب ہم روہڑی پہنچے تو اے ایس ایم صاحب کے کمرے میں گئے، مگر وہ اپنے دفتر سے غائب تھے۔ بڑی مشکل سے اسٹاف کے ایک دو افراد نظر آئے، جن کی مہربانی سے تقریباً ایک گھنٹے بعد آدھی بوگی کا کمپریسر آن ہو سکا۔ اس دوران دو مرتبہ ٹرین کو ویکیوم لگا کر روکنا پڑا۔

اب ذرا ریلوے عملے کی حالت بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ہماری بوگی نمبر 6 میں ہی چھ سیٹوں والا پورا کیبن ایک گارڈ، ٹکٹ چیکر اور دو پولیس اہلکاروں کے قبضے میں تھا۔ باقاعدہ آگے کپڑا باندھ کر وہاں آرام فرمایا جا رہا تھا، جیسے یہ عوامی ٹرین نہیں بلکہ ان کی ذاتی آرام گاہ ہو۔

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ جیسے لیڈروں اور ایسے نااہل، کرپٹ، بدانتظام اور بے حس افسروں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان کے نام پر بننے والے ہر ادارے کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ عوام کے ٹیکس، عوام کے کرایے اور عوام کی مجبوریوں پر چلنے والے ادارے عوام کو ہی ذلیل و خوار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

محترم وزیر ریلوے صاحب! میری آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اس وقت سے ڈریں جب یہی لوگ اپنے حق کو پہچاننے لگیں گے۔ پھر ایسے وزیروں، نااہل افسروں، کرپٹ اہلکاروں اور بددیانت نظام کا کیا حشر ہوگا، یہ سوچنا بھی مشکل نہیں۔

پاکستان ریلوے ایک قومی ادارہ ہے، مگر افسوس کہ مسافروں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ کسی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ اے سی کا کرایہ وصول کر کے بغیر اے سی کے سفر کروانا، گندے واش روم، غیر ذمہ دار عملہ، شکایات پر خاموشی، اور مسافروں کے لیے کوئی فوری ریلیف نہ ہونا، یہ سب ریلوے کی بدترین بدانتظامی کا کھلا ثبوت ہے۔

جناب وزیر صاحب! اگر آپ واقعی ریلوے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو صرف دعووں، بیانات اور تصویروں سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کو خود اچانک عام مسافر کی طرح ٹرینوں میں سفر کرنا ہوگا۔ آپ کو دیکھنا ہوگا کہ مسافر کن حالات میں سفر کرتے ہیں، فیملیز کس کرب سے گزرتی ہیں، بچے کس گھٹن میں روتے ہیں، بزرگ کس بے بسی سے بیٹھے رہتے ہیں، اور خواتین کس اذیت کا سامنا کرتی ہیں۔

ہماری درخواست ہے کہ پاکستان ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس سمیت تمام ٹرینوں کے اے سی نظام، واش رومز، صفائی، عملے کے رویے، شکایتی نظام اور مسافروں کی سہولتوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ جو افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اللہ پاک ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، پاکستان کو ایسے نااہل، بددیانت اور رشوت خور افسروں کے عذاب سے نجات دے، اور عوام کو وہ شعور عطا فرمائے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔

آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top