گلشنِ حدید پانی کے منصوبے کی تکمیل پر پیپلز پارٹی قیادت کو خراجِ تحسین، مگر ٹوٹی سڑکوں، ادھورے اسپتال، اسکول، تجاوزات اور بازاروں کی بدانتظامی پر فوری توجہ کا مطالبہ
گلشنِ حدید کے ترقیاتی منصوبوں پر عوامی سوالات، پانی منصوبہ قابلِ تعریف مگر کئی بنیادی مسائل حل طلب
رپورٹ: زاہد اقبال بھٹہ
گلشنِ حدید میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کا تیسرا دور جاری ہے۔ اس عرصے میں کئی کام ہوئے، کئی منصوبے آئے، کچھ مکمل ہوئے اور کچھ آج بھی ادھورے پن کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔
سب سے پہلے ایک اچھے کام کا اعتراف ضروری ہے۔ گلشنِ حدید میں پانی کا مسئلہ ایک بہت بڑا اور دیرینہ مسئلہ تھا۔ عوام برسوں سے اس بنیادی سہولت سے محروم تھے۔ دیر سے ہی سہی، مگر تقریباً 50 کروڑ روپے کی لاگت سے پانی کا منصوبہ مکمل ہونے کے قریب پہنچا اور عوام کو پانی ملنا شروع ہوا۔ آج اس منصوبے کی تعریف صرف پیپلز پارٹی کے کارکن نہیں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کر رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ پانی عوام کا بنیادی حق تھا، مگر افسوس کہ گلشنِ حدید اور اسٹیل ٹاؤن کے عوام ایک طویل عرصے تک اس حق سے محروم رہے۔
پاکستان اسٹیل ملز کے اُس وقت کے سی ای او اسد اسلام ماہنی کے دور میں کیے گئے فیصلوں کے باعث گلشنِ حدید اور اسٹیل ٹاؤن کو پانی کی فراہمی بند رہی، جس سے عوام تقریباً دس ماہ تک بوند بوند پانی کو ترستے رہے۔ اس صورتحال نے شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید اذیت اور مشکلات میں مبتلا رکھا۔
عوامی حلقوں کے مطابق اسد اسلام ماہنی کا یہ فیصلہ گلشنِ حدید کے عوام کے لیے کسی یزیدی طرزِ عمل سے کم نہ تھا، کیونکہ پانی جیسے بنیادی حق سے لوگوں کو محروم رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے پر متعدد احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، مگر عوامی مطالبات کے باوجود پانی کی سپلائی طویل عرصے تک بحال نہ ہو سکی۔
ایسے مشکل حالات میں پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے عوامی مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھایا، بھرپور کوششیں کیں اور عوام کو ان کا جائز حق دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گلشنِ حدید اور اسٹیل ٹاؤن کے عوام کے لیے پانی کی بحالی کی جدوجہد پر پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔
لیکن اسی کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پچھلے پندرہ برسوں میں گلشنِ حدید کو کروڑوں روپے کے منصوبے ملے، مگر آج بھی علاقے کی حالت بہت بہتر نہیں ہو سکی۔ کئی مقامات پر گلشنِ حدید ایک کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو منصوبے کروڑوں روپے سے بنے، کیا وہ واقعی عوامی ضرورت کے مطابق تھے؟ کیا وہ مکمل ہوئے؟ یا پھر منصوبہ بندی میں عوام کی اصل ضروریات کو نظرانداز کیا گیا؟
نالے کے منصوبے پر 25 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، مگر گلشنِ حدید کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اندرونی گلیاں اور تباہ حال روڈز مقامی قیادت کی فوری توجہ کے منتظر رہے۔ اگر یہی رقم علاقے کی اندرونی سڑکوں اور گلیوں پر خرچ کی جاتی تو شاید آج عوام زیادہ مطمئن ہوتے۔
اسی طرح 50 بیڈ کا اسپتال ایم پی اے ساجد جوکھیو صاحب اپنی کوششوں سے لے آئے، مگر اسے مکمل کرنا بھی کسی کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ عوام کو صرف اعلان نہیں، مکمل اور فعال سہولت چاہیے۔ اسپتال کا مکمل ہونا علاقے کے ہزاروں لوگوں کے لیے بہت بڑی سہولت بن سکتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ 2 نمبر کمرشل مارکیٹ کے قریب گورنمنٹ اسکول کا ہے، جو آج کھنڈر بن چکا ہے اور تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف ایک 2 پر گرلز کالج الحمدللہ کامیابی سے چل رہا ہے، مگر وہاں بھی کئی بنیادی سہولیات کی ضرورت موجود ہے۔ تعلیمی اداروں پر خاص توجہ دی جائے تو گلشنِ حدید کی آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
فیز 1 میں کچھ گلیوں میں پیور بلاک کا کام کیا گیا، جو ایک اچھا قدم تھا، مگر حیرت اس بات پر ہے کہ بعض مقامات پر گلی مکمل کرنے کے بجائے تقریباً 20 فٹ کا حصہ چھوڑ دیا گیا۔ جن گھروں کے سامنے یہ کام ادھورا چھوڑا گیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی؟ کیا کسی مقامی عہدیدار نے ٹھیکیدار سے پوچھا؟ کیا کسی نے عوام کی شکایت سنی؟ اگر اچھے کام کو بھی ادھورا چھوڑ دیا جائے تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
آج میری تحریر کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ اصلاح کی نیت سے توجہ دلانا ہے۔ جب قیادت اچھا کام کرتی ہے تو عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ پانی کے منصوبے کو دیکھ لیں، ابھی مکمل طور پر مثالی صورتحال نہیں بنی، مگر عوام کو پانی ملنا شروع ہوا تو لوگ خوش ہوئے اور پیپلز پارٹی کی تعریف کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا انکروچمنٹ کا خاتمہ پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کے بس کی بات نہیں؟ گلشنِ حدید کے ٹوٹے پھوٹے روڈز کیوں نظرانداز ہیں؟ بدھ بازار اور پیر بازار کو بہتر انداز میں ماڈل بازار کی شکل کیوں نہیں دی جا سکتی؟ اگر روڈز سے تجاوزات ختم کر دی جائیں، بازاروں کو منظم کر دیا جائے، صفائی اور پارکنگ کا نظام بنا دیا جائے تو عوام کو بھی سہولت ملے گی اور دونوں یونین کونسلز کو آمدنی بھی حاصل ہو سکتی ہے، جس سے مزید عوامی کام کروائے جا سکتے ہیں۔
اصل بات ترجیحات کی ہے۔ عوام کو وہ کام چاہیے جو ان کی روزمرہ زندگی آسان کرے۔ پانی، سڑک، اسکول، اسپتال، صفائی، تجاوزات کا خاتمہ، بازاروں کی بہتری اور گلیوں کی مکمل مرمت؛ یہی عوام کی اصل ضرورت ہے۔
اگر پیپلز پارٹی گلشنِ حدید کی قیادت عوامی ضروریات کے مطابق کام کرے گی تو گلشنِ حدید کا ہر فرد پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ لیکن اگر عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے ترسایا جائے گا تو پھر تعریف صرف جیالوں تک محدود رہ جائے گی، کیونکہ عام عوام تعریف مجبوراً نہیں بلکہ کارکردگی دیکھ کر کرتی ہے۔
میری پیپلز پارٹی گلشنِ حدید کی قیادت سے گزارش ہے کہ پانی کے منصوبے کی طرح دیگر بنیادی مسائل پر بھی سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔ ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں، غیر ضروری اخراجات کے بجائے عوامی ضرورت کے کام کیے جائیں، ٹھیکیداروں کے کام کی نگرانی کی جائے اور ہر منصوبے کو مکمل معیار کے ساتھ عوام کے حوالے کیا جائے۔
گلشنِ حدید ایک خوبصورت، منظم اور مثالی علاقہ بن سکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ قیادت عوام کی اصل ضرورت کو سمجھے، ترجیحات درست کرے اور عملی کام کو سیاست کا مرکز بنائے۔
اچھے کام کی تعریف بھی ہوگی، غلطیوں کی نشاندہی بھی ہوگی، کیونکہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور اس کی بہتری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

