امریکا کے ایرانی فوجی تنصیبات پر نئے حملے، متعدد ڈرونز بھی مار گرائے
ایرانی شہر بندر عباس پورٹ کے قریب امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی شروع کر دی
واشنگٹن + تہران: امریکی فوج نے ایران کی فوجی سائٹ پر نئے حملے کئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس فوجی سائٹ کو آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی بحری ٹریفک کے لئے خطرہ قرار دیا گیا تھا، حملوں کا مقصد امریکی افواج، آبنائے ہرمز میں تجارت جہازوں کو لاحق خطرہ ختم کرنا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے اس حملے کی تصدیق کی ہے، اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی بندر گاہی شہر بندر عباس کے مشرق میں مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دھماکوں کی درست جگہ اور ان کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بندر عباس کے فضائی دفاعی نظام کو مختصر وقت کے لئے فعال کر دیا گیا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے متعدد ایرانی ڈرونز بھی مار گرائے۔
دوسری جانب ایرانی شہر بندر عباس پورٹ کے قریب امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی شروع کر دی۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں ایک امریکی فضائی اڈے پر حملہ کیا گیا، اس امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے کئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، امریکا نے اگر دوبارہ حملہ کیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہوگا، نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہوگی۔
پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ 3 جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخلے سے روکا ہے۔
ادھر برطانوی نشریاتی ادارے نے ایرانی قونصل خانے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا، امریکی آئل ٹینکر اپنا ریڈار بند کر کے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب عرب ٹی وی کے مطابق امریکا کی جانب سے 3 ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔



