کراچی میں قبضہ مافیا اور زمینوں کی بندر بانٹ، ایم کیو ایم اور سندھ حکومت آمنے سامنے

Global Voice News 3

کراچی میں قبضہ مافیا اور سرکاری زمینوں کا معاملہ، فاروق ستار کے الزامات پر سندھ حکومت کا سخت ردعمل

کراچی: شہر قائد میں مبینہ قبضہ مافیا، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ، ہل پارک سمیت مختلف مقامات پر متنازع تعمیرات اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان اور سندھ حکومت کے درمیان لفظی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے شہر کو قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے بعض افسران مبینہ طور پر قبضہ مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں، جس کے نتیجے میں رہائشی پلاٹس پر کمرشل سرگرمیاں، زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے ہل پارک سمیت کئی علاقوں میں قیمتی اراضی کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ شہر کی پہاڑیوں کو کاٹ کر نئی رہائشی اسکیمیں اور پلاٹس نکالے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل سے کراچی کا ماحولیاتی اور شہری ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے وزیراعظم کو خطوط لکھ کر سرکاری زمینوں پر قبضوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے میئر کراچی سے مطالبہ کیا کہ پارکوں میں جاری کمرشل سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جائے اور شہر کے ماسٹر پلان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

فاروق ستار نے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے فاروق ستار کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کی سیاست کا وقت گزر چکا ہے اور اب فیصلے صرف قانون، میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے۔

سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ہل پارک ہو یا گل پلازہ، قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے معاملات کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

ترجمان سندھ حکومت نے ایم کیو ایم قیادت پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں کے ایم سی کو کن حالات سے دوچار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے یا شہر میں بدامنی پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں غیر سنجیدہ ہیں، صوبائی حکومت شہر کے معاملات کو آئین، قانون اور میرٹ کے مطابق چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

کراچی میں سرکاری زمینوں، پارکوں، غیر قانونی تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی کے معاملات پر سیاسی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جبکہ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ الزامات سے آگے بڑھ کر شفاف تحقیقات اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top