یونان کشتی حادثہ کیس: فیڈرل سروس ٹربیونل نے ایف آئی اے کے 14 برطرف ملازمین کو بحال کر دیااسلام آباد: فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد نے یونان کشتی حادثہ 2023 کے بعد ملازمت سے برطرف کیے گئے وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، کے 14 ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔دستاویزات کے مطابق فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد میں مختلف اپیلوں کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں ایف آئی اے کے برطرف ملازمین کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا۔بحال ہونے والے ملازمین میں حنا سحرش، ملک محمد فہد، پرویز اختر، دانیال افضل، عابد حسین، محمد رضوان، محمد طلحہ تنویر، محمد شفیق، محمد وسیم قیصر، محمد زاہد اقبال، محمد ابو بکر، شہباز الحسن اور محمد آصف خان سمیت دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ 2023 میں پیش آنے والے یونان کشتی حادثے میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی سفری نیٹ ورکس اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھے تھے۔اس افسوسناک سانحے کے بعد مختلف اداروں کے اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کے بعد ایف آئی اے کے متاثرہ ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم سامنے آیا ہے۔فیصلے کے بعد قانونی اور انتظامی حلقوں میں یہ معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے کہ یونان کشتی حادثے جیسے سانحات میں ذمہ داری کے تعین، محکمانہ کارروائی اور انصاف کے تقاضوں کو کس طرح شفاف بنایا جائے۔
یونان کشتی حادثہ کیس، ایف آئی اے کے 14 برطرف ملازمین بحال



