بھینس کالونی کے اسکول میں انوکھی چوری

Global Voice News 4 1

بھینس کالونی کے اسکول میں انوکھی چوری، دروازے، کھڑکیاں، ڈیسکیں اور پنکھے تک غائب

عید کی تعطیلات کے دوران سرکاری اسکول سے بنیادی سہولیات کا سامان مبینہ طور پر چوری، مقامی افراد نے سامان سے بھری گاڑی روک لی، شہریوں کا اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

کراچی: ضلع ملیر کے علاقے بھینس کالونی روڈ نمبر 5، تھانہ سکھن کی حدود میں واقع ایک سرکاری اسکول میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران مبینہ چوری کی غیر معمولی واردات سامنے آئی ہے، جس نے علاقے کے شہریوں، والدین، سماجی حلقوں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے تعطیلات کے دوران اسکول کی عمارت کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود بنیادی سہولیات کا سامان اکھاڑ کر لے جانے کی کوشش کی۔ مبینہ طور پر اسکول کے دروازے، کھڑکیاں، بچوں کے بیٹھنے کی ڈیسکیں، کرسیاں، صفائی عملے کی کرسیاں، برقی پنکھے اور دیگر سامان تک اتار لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق واردات کے دوران اسکول کے دونوں مرکزی گیٹ، ایک بیرونی اور ایک اندرونی گیٹ، بھی توڑ کر گاڑی میں لوڈ کیے گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ صرف چوری کی واردات نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارے، بچوں کے مستقبل اور علاقے کے تعلیمی ماحول پر حملہ ہے۔

شہریوں کے مطابق اسکول سے سامان نکال کر باقاعدہ لوڈر گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ مشکوک سرگرمی دیکھنے پر مقامی معززین اور ذمہ دار شہریوں نے بروقت مداخلت کی اور سامان سے بھری گاڑی کو روک لیا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی اور کچھ سامان اپنی تحویل میں لیا، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہوئی یا نہیں، کون نامزد کیا گیا، کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا اور تفتیش کس مرحلے پر ہے۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر شاکر عمر گجر نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی تعلیم بھی اسی سرکاری اسکول میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ بھینس کالونی کے بے شمار بچوں کے لیے علم کا مرکز رہا ہے اور آج اسی اسکول کو اس حالت میں دیکھنا نہایت تکلیف دہ ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بھینس کالونی روڈ نمبر 5 کے ساتھ ساتھ روڈ نمبر 7 پر واقع سرکاری اسکول کی حالت بھی انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر تعلیمی اداروں کی حفاظت، مرمت اور بحالی پر فوری توجہ نہ دی گئی تو علاقے کے بچوں کا تعلیمی مستقبل مزید متاثر ہوگا۔

شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک سرکاری اسکول کئی روز تک غیر محفوظ کیسے رہا؟ اسکول کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ سرکاری املاک کو اس طرح نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی؟ اور اگر سامان برآمد ہوا ہے تو اسے فوری طور پر اسکول کو واپس کیوں نہیں کیا گیا؟

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان اور مقامی شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، متعلقہ ڈی آئی جی، ایس ایس پی ملیر، ڈپٹی کمشنر ملیر اور محکمہ تعلیم سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کے مطالبات میں واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات، ملوث افراد کی فوری گرفتاری، چوری شدہ سامان کی برآمدگی، اسکول کی فوری بحالی، دروازوں، کھڑکیوں، گیٹ، ڈیسکوں، کرسیوں اور پنکھوں کی دوبارہ تنصیب، مستقل سیکیورٹی انتظامات اور کارروائی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ شامل ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلیم کی حفاظت دراصل قوم کے مستقبل کی حفاظت ہے۔ اگر آج ایک اسکول کو اس طرح غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تو کل کسی اور علاقے کے بچے بھی اسی طرح تعلیمی سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو معمولی چوری سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اسے سرکاری تعلیمی ادارے اور بچوں کے مستقبل پر حملہ سمجھتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top