پنجاب میں آن لائن کمائی ایپ فراڈ کا انکشاف،“تھامس” نامی مبینہ آن لائن کمائی ایپ شہریوں سے لاکھوں روپے بٹور کر غائب، مختلف شہروں کے متاثرین نے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کر دیا
“تھامس” نامی ایپ شہریوں کے لاکھوں روپے لوٹ کر غائب
بملتان، خانیوال، میاں چنوں، ساہیوال گوجرانوالہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات، شیخوپورہ، سرگودھا اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں کے شہری مبینہ طور پر متاثرلاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں آن لائن کمائی کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کا ایک اور مبینہ سائبر فراڈ سامنے آیا ہے، جس میں “تھامس” نامی آن لائن کمائی ایپلیکیشن کے ذریعے شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورے جانے کی اطلاعات ہیں۔متاثرین کے مطابق ایپلیکیشن کے ذریعے صارفین کو آن لائن سرمایہ کاری، روزانہ منافع اور کم وقت میں زیادہ آمدنی کے خواب دکھائے گئے۔ شہریوں کو مختلف پیکجز، ریفرل سسٹم اور منافع کی ترغیب دے کر رقم جمع کروانے پر آمادہ کیا گیا، تاہم کچھ عرصے بعد ایپ مبینہ طور پر غائب ہو گئی اور صارفین اپنی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق ملتان، خانیوال، میاں چنوں، ساہیوال، گوجرانوالہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات، فاروق آباد، شیخوپورہ، سرگودھا اور فیصل آباد کے شہریوں کی بڑی تعداد اس مبینہ فراڈ سے متاثر ہوئی ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ایپ پر منافع دکھایا جاتا رہا، جس سے لوگوں کا اعتماد بڑھا، بعد ازاں کئی صارفین نے مزید رقم جمع کروا دی۔ تاہم کچھ وقت کے بعد رقم نکالنے میں مشکلات شروع ہوئیں اور پھر ایپلیکیشن یا اس سے وابستہ افراد سے رابطہ ختم ہو گیا۔سائبر کرائم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ایپس عموماً زیادہ منافع، فوری کمائی، ریفرل بونس اور آسان آمدنی کے نام پر لوگوں کو لالچ دیتی ہیں۔ شہری جب ابتدائی منافع دیکھ کر اعتماد کر لیتے ہیں تو بڑی رقم جمع کروا دیتے ہیں، جس کے بعد ایسے نیٹ ورکس اچانک بند ہو جاتے ہیں۔شہریوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ، پنجاب پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ “تھامس” نامی ایپلیکیشن، اس کے منتظمین، بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس، سوشل میڈیا گروپس اور ریفرل نیٹ ورک کی فوری تحقیقات کی جائیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ سائبر فراڈ کے ذریعے عام شہریوں، نوجوانوں، خواتین، طلبہ اور کم آمدنی والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے ایسے کیسز میں فوری کارروائی اور عوامی آگاہی مہم نہایت ضروری ہے۔ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایسی آن لائن ایپلیکیشن پر پیسہ لگانے سے گریز کریں جو غیر معمولی منافع، روزانہ کمائی یا بغیر محنت آمدنی کا وعدہ کرے۔ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل کمپنی کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن، دفتر، لائسنس، صارفین کے تجربات اور متعلقہ اداروں سے تصدیق ضرور کی جائے۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ لالچ میں آ کر نامعلوم آن لائن ایپس، واٹس ایپ گروپس، ٹیلی گرام چینلز یا جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز میں رقم جمع نہ کروائیں، کیونکہ ایسی اسکیمیں اکثر فراڈ پر مبنی ہوتی ہیں اور متاثرین کو بعد میں قانونی کارروائی کے باوجود اپنی رقم واپس ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔



