رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او گارڈن نے مبینہ طور پر ایس ایس پی سٹی کے احکامات پر ملزمہ کو تھانے میں خصوصی سہولیات فراہم کیں، جن میں کھانا، کپڑے، میک اپ اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمہ کو تھانے میں وی آئی پی طرز کا پروٹوکول دیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے لے کر عدالتی پیشی تک متعلقہ اعلیٰ افسران کو مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا گیا، جبکہ بعض اہم افسران کو اس کیس کی پیش رفت سے لاعلم رکھا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایس ایچ او اور ملزمہ کے درمیان مالی معاملات کی بات چیت بھی ہوئی، جس پر الگ سے تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری کے مطابق ملزمہ کو عدالت پیشی کے دوران بھی غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں، اور اسے پولیس گاڑی کے بجائے ایس ایچ او کی پرائیویٹ گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران بعض دیگر انتظامی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالت میں ملزمہ کو موبائل فون تک رسائی حاصل رہی، جبکہ موقع پر موجود عملے کی مناسب بریفنگ بھی نہیں کی گئی۔

انکوائری کمیٹی نے ایس ایس پی سٹی، ایس ایچ او گارڈن اور متعلقہ تفتیشی افسران کے خلاف سندھ ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1988 کے تحت سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں مجموعی طور پر اس کیس میں سنگین غفلت، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔