سکھن پولیس کارروائی پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ: ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن

cirtw26d o

شادی میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے بجائے مبینہ طور پر باڑے کے تالے توڑنے، گاڑی اور رقم لینے کے الزامات؛ ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن نے غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کر دیا

سکھن پولیس کارروائی پر سوالات، ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کراچی: سکھن کے علاقے میں شادی کی تقریب کے دوران مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کارروائی سے متعلق نئے سوالات سامنے آ گئے ہیں۔ ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن سے وابستہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

مقامی افراد کے مطابق اصل معاملہ شادی میں فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا تھا، تاہم الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سکھن پولیس نے کارروائی کے دوران مبینہ طور پر باڑے کے تالے توڑے، گاڑی تحویل میں لی اور رقم لینے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

علاقہ مکینوں اور متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ اگر شادی میں فائرنگ جیسا غیر قانونی عمل ہوا ہے تو اس میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، مگر اس معاملے کی آڑ میں کسی معزز شہری یا خاندان کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری عبد الحمید گجر اور ان کے صاحبزادے عثمان گجر کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چوہدری عبد الحمید گجر اور ان کا خاندان علاقے کے معزز، باوقار اور قابلِ احترام افراد میں شمار ہوتا ہے، جن کی سماجی خدمات اور عوامی روابط کسی سے پوشیدہ نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص پر بغیر ثبوت الزامات عائد کرنا اور کردار کشی کرنا غیر اخلاقی عمل ہے، جس سے معاشرے میں نفرت، انتشار اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر تنقید ہمیشہ حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

متاثرہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل برانچ کے اہلکار پر لگائے گئے سنگین الزامات کی بھی شفاف انکوائری کرائی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے اور اگر کوئی اہلکار یا فرد اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ڈیری اینڈ فارمرز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد نے عثمان گجر پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، بے بنیاد الزامات کا سلسلہ روکا جائے اور اصل واقعے یعنی شادی میں مبینہ فائرنگ اور اس کے بعد پولیس کارروائی کے تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک مہذب معاشرہ انصاف، سچائی، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے احترام پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں تمام فریقین کا مؤقف سنا جائے، شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہو اور کسی بھی بے گناہ شخص کی عزتِ نفس مجروح نہ کی جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top