زون 6 اور کوئٹہ گلیڈییٹر ٹیم کے مینجر اعظم خان ایک مضبوط اور غالب قوت کے طور پر ابھرتے نظر آرہے ہیں.
زونل انتخابات 30 جون 2026 کو تین سالہ مدت کے لیے منعقد ہونے جا رہے ہیں.
کراچی(رپورٹ/ایم جےکے)کراچی کرکٹ زونل انتخابات 2026 میں عیاری اور وفاداری دکھانے کا سلسلہ جاری، زون 6 اور کوئٹہ گلیڈییٹر ٹیم کے مینجر اعظم خان ایک مضبوط اور غالب قوت کے طور پر ابھرتے نظر آرہے ہیں، زونل انتخابات 30 جون 2026 کو تین سالہ مدت کے لیے منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کرکٹ کے زونل انتخابات 30 جون 2026 کو تین سالہ مدت کے لیے منعقد ہونے جا رہے ہیں، ان انتخابات سے قبل ہی کوئٹہ گلیڈییٹر ٹیم کے اونر ندیم عمر اور زون 6 سے تعلق رکھنے والے اور پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈییٹر ٹیم کے مینیجر کے فرائض انجام دینے والے اعظم خان کی قیادت میں قائم گروپ ایک بڑی کامیابی حاصل کر چکا ہے اور ریجنل انتخابات میں بھی برتری حاصل کرلی ہے جن کا باضابطہ انعقاد زونل انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد ہوگا، ندیم عمر، اعظم خان کے گروپ نے کراچی کرکٹ میں اپنی غیر معمولی طاقت اور اثر و رسوخ کا ہمیشہ کی طرح مظاہرہ کیا ہے، ان کے گروپ نے زون I، زون III، زون V اور زون VI میں تمام نشستیں بلا مقابلہ جیت لی ہیں جبکہ زون IV میں بھی ان کے گروپ کی مضبوط پوزیشن ہے اور وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرے گا، اگرچہ آزاد گروپ نے میدان میں آکر مقابلے کی فضا پیدا کر دی ہے، اسی طرح کی صورتحال زون VII میں بھی متوقع ہے جہاں ندیم عمر، اعظم خان کا گروپ واضح برتری رکھتا دکھائی دیتا ہے، واحد زون جہاں سخت اور دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے وہ زون II ہے یہاں موجودہ آرٹ کونسل کراچی کے سیکرٹری اعجاز فاروقی اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے ایم سی اسپورٹس اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے جمیل احمد کی قیادت میں گروپ بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں موجود ہے اور ندیم عمر، اعظم خان گروپ کے زون 2 میں چار کلبوں کے صدور کی وفاداریاں اپنی جانب کر لی ہیں جس سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ گزشتہ دور کی طرح اپنا اثر و رسوخ زون II میں برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے، اسکے علاوہ زیادہ تر زون میں کلبوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کی بھرپور حمایت کے باعث ندیم عمر، اعظم خان کراچی کرکٹ کی سب سے بااثر اور نمایاں شخصیت بن کر سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں، ان کے منشور کی وسیع پذیرائی اور انہیں حاصل ہونے والی مضبوط حمایت کے باعث بہت سے مبصرین انہیں “کراچی کرکٹ کا کرتا دھرتا” قرار دے رہے ہیں، جو 2026 کے انتخابات سے قبل شہر کی کرکٹ انتظامیہ میں ان کی غالب حیثیت کی عکاسی کرتا ہے اور ساتھ میں بدلتے موسم کی طرح کراچی کے ساتوں زون کے کلبوں کے صدور کی عیاری اور وفاداری بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔


